/****** Font Awesome ******/ /****** Collapsing Nested Menu Items | Code by Elegant Themes ******/

تاریخ اسلام میں ایسے بے شمار نام محفوظ ہیں جن کے کارہائے نمایاں رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے لیکن جب ذکر سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ کا آجائے تو تاریخ ڈھونڈتی ہے کہ ان جیسا دوسراکوئی ایک ہی اسے اپنے دامن میں مل جائے ۔ کوئی کسی فن کا امام ہے تو کوئی کسی علم کا ماہر لیکن سیدنا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ ہر علم ، ہر فن کے آفتاب و ماہتاب ہیں

جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے

جہاں مالک قدیر نے آپ کو ،نامور آباؤ اجداد اور معزز و مقدس قبیلہ میں پیدا فرمایا وہیں آپ کی اولاد اورخاندان میں بھی بے شمار بے مثال ولاجواب افراد پیدا فرمائے ۔ استاد زمن ، حجۃ الاسلام ، مفتئ اعظم ،مفسر اعظم ،حکیم الاسلام، ریحان ملت ، صدر العلماء ، امین شریعت جس کسی کو دیکھ لیجئے ہر ایک اپنی مثال آپ ہے ۔

انہی میں ایک نام سر سبز وشاداب باغِ رضا کے گل شگفتہ ، روشن روشن فلک رضا کے نیر تاباں قاضی القضاۃ فی الہند ، جانشین مفتئ اعظم ،حضور تاج الشریعہ حضرۃ العلام مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری دام ظلہ علینا کا بھی ہے ۔

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم رضا خاں قادری جیلانی کے لخت جگر ، سرکار مفتئ اعظم ہند علامہ مفتی مصطفی رضاخاں قادری نوری کے سچے جانشین ،حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خاں قادری رضوی کے مظہر اور سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی کی برکات و فیوضات کا منبع اور ان کے علوم و روایتوں کے وراث و امین ہیں۔

ان عظیم نسبتوں کا فیضان آپ کی شخصیت میں اوصاف حمیدہ اور اخلاق کریمانہ کی صورت میں جھلک رہا ہے ۔استاذ الفقہأ حضرت علامہ مفتی عبد الرحیم صاحب بستوی دامت برکاتہم القدسیہ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علیناپر ان عظیم ہستیوں کے فیضان کی بارشوں کاتذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:” سب ہی حضرات گرامی کے کمالات علمی و عملی سے آپ کو گراں قدر حصہ ملا ہے ۔ فہم و ذکا ،قوت حافظہ و تقویٰ سیدی اعلیٰ حضرت سے ،جودت طبع و مہارت تامہ (عربی ادب ) میں حضور حجۃ الاسلام سے ،فقہ میں تبحر و اصابت سرکار مفتئ اعظم ہند سے ، قوت خطابت و بیان والد ذی وقار مفسر اعظم ہند سے یعنی وہ تمام خوبیاں آپ کووارثتہً حاصل ہیںجن کی رہبر شریعت و طریقت کو ضرورت ہوتی ہے ۔ ” [پیش گفتار، شرح حدیث نیت/صفحہ:٤ ]

 

جانشین رضا شاہ اختر رضا ۔ ۔ ۔ فخر اہل سنن شاہ اختر رضا
ہیں میری زندگی شاہ اختر رضا ۔ ۔ ۔ ان کا سایہ سروں پر رہے دائما
ان کی نورانی صورت پہ لاکھوں سلام ۔ ۔ ۔ مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

ولادت باسعادت:

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی ولادت باسعادت ٢٦/محرم الحرام ١٣٦٢ھ بمطابق ٢/فروری ١٩٤٣ء بروز منگل ہندوستان کے شہر بریلی شریف کے محلہ سوداگران میں ہوئی ۔

اسم گرامی :

آپ کااسم گرامی ”محمداسماعیل رضا” جبکہ عرفیت ”اختر رضا” ہے ۔ آپ اخترتخلص استعمال فرماتے ہیں۔ آپ کے القابات میں تاج الشریعہ، سلطان الفقہاء، جانشین مفتئ اعظم، شیخ الاسلام و المسلمین زیادہ مشہور ہیں۔

شجرہ نسب :

اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت تک آپ کا شجرہ نصب یوں ہے۔ محمد اختررضا خاں قادری ازہری بن محمد ابرہیم رضا خاں قادری جیلانی بن محمد حامد رضا خاں قادری رضوی بن امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی

آپ ٥/ بھائی اور٣/بہنیں ہیں۔٢/بھائی آپ سے بڑے ہیں ۔ ریحان ملت مولانا ریحان رضا خاں قادری اورتنویر رضا خاں قادری (آپ پچپن ہی سے جذب کی کیفیت میں غرق رہتے تھے بالآ خر مفقود الخبرہوگئے) اور٢/ آپ سے چھوٹے ہیں۔ ڈاکٹر قمر رضا خاں قادری اور مولانا منان رضا خاں قادری

تعلیم و تربیت:

جانشین مفتئ اعظم حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی عمر شریف جب ٤/سال ،٤/ ماہ اور٤/ دن ہوئی توآپ کے والد ماجد مفسر اعظم ہند حضرت ابراہیم رضا خاں جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ نے تقریب بسم اللہ خوانی منعقد کی ۔اس تقریب سعید میں ”یاد گار اعلی حضرت دارالعلوم منظر الاسلام” کے تمام طلبہ کو دعوت دی گئی۔ رسم بسم اللہ نانا جان تاجدار اہلسنّت سرکار مفتئ اعظم ہند محمد مصطفی رضاخاں نور ی نے ادا کرائی۔ حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا نے ”ناظرہ قرآن کریم ”اپنی والدہ ماجدہ شہزادیئ مفتی اعظم سے گھر پرہی ختم کیا ،والدماجد سے ابتدائی اردو کتب پڑھیں۔ اس کے بعد والد بزرگوار نے ”دارالعلوم منظرالاسلام” میں داخل کرا دیا ، درس نظامی کی تکمیل آپ نے منظر الاسلام سے کی ۔اس کے بعد١٩٦٣ء میں حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا ”جامعۃ الازہر”قاہرہ ،مصرتشریف لے گئے ۔وہاں آپ نے ”کلیہ اصول الدین” میں داخلہ لیااورمسلسل تین سال تک” جامعہ ازہر، مصر” کے فن تفسیر و حدیث کے ماہر اساتذہ سے اکتساب علم کیا۔ تاج الشریعہ ١٩٦٦ء /١٣٨٦ھ میںجامعۃ الازہر سے فارغ ہوئے۔ اپنی جماعت میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر آپ کواس وقت کے مصر کے صدر کرنل جمال عبدالناصر نے ”جامعہ ازہر ایوارڈ” پیش کیا اور ساتھ ہی سند سے بھی نوازے گئے۔ [بحوالہ : مفتئ اعظم ہند اور ان کے خلفاء /صفحہ :١٥٠/جلد :١]

اساتذہ کرام :

آپ کے اساتذہ کرام میں حضور مفتی اعظم الشاہ مصطفےٰ رضاخاں نوری بریلوی ، بحر العلوم حضرت مفتی سید محمد افضل حسین رضوی مونگیری،مفسر اعظم ہند حضرت مفتی محمد ابراہیم رضا جیلانی رضوی بریلوی،فضیلت الشیخ علامہ محمد سماحی ،شیخ الحدیث و التفسیر جامعہ ازہر قاہرہ، حضرت علامہ مولانا محمود عبدالغفار ،استاذالحدیث جامعہ ازہر قاہرہ، ریحان ملت ،قائداعظم مولانا محمد ریحان رضا رحمانی رضوی بریلوی، استاذ الاساتذہ مولانا مفتی محمد احمد عرف جہانگیر خاں رضوی اعظمی کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ [مفتئ اعظم ہند اور ان کے خلفاء /صفحہ :١٥٠/جلد :١]

ازدواجی زندگی:

جانشین مفتی اعظم کا عقد مسنون حکیم الاسلام مولانا حسنین رضا بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ کی دختر نیک اخترکے ساتھ ٣/نومبر١٩٦٨ء/ شعبان المعظم١٣٨٨ھ بروز اتوار کو محلہ کا نکر ٹولہ شہر کہنہ بریلی میں ہوا۔ آپ کے ایک صاحبزادہ مخدوم گرامی مولانا عسجد رضا قادری برےلوی اور پانچ صاحبزادیاں ہیں۔

درس وتدریس :

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا نے تدریس کی ابتدادارالعلوم منظر اسلام بریلی سے ١٩٦٧ء میں کی۔ ١٩٧٨ء میں آپ دارالعلوم کے صدر المدرس اور رضوی دارالافتاء کے صدر مفتی کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ درس و تدرےس کا سلسلہ مسلسل بارہ سال جاری رہالیکن حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی کثیر مصروفیات کے سبب یہ سلسلہ مستقل جاری نہیں رہ سکا ۔ لیکن آج بھی آپ مرکزی دارالافتاء بریلی شریف میں ”تخصص فی الفقہ ” کے علمائے کرام کو ”رسم المفتی،اجلی الاعلام” اور ”بخاری شریف ” کا درس دیتے ہیں۔

بیعت وخلافت :

حضورتا ج الشریعہ کو بیعت و خلافت کا شرف سرکار مفتئ اعظم سے حاصل ہے۔ سرکار مفتئ اعظم ہند نے بچپن ہی میں آپ کوبیعت کا شرف عطا فرمادیا تھااور صرف ١٩/ سال کی عمر میں١٥/جنوری١٩٦٢ئ/١٣٨١ ھ کو تمام سلاسل کی خلافت و اجازت سے نوازا۔ علاوہ ازیں آپ کو خلیفہ اعلیٰ حضرت برہان ملت حضرت مفتی برہان الحق جبل پوری، سید العلماء حضرت سید شاہ آل مصطفی برکاتی مارہروی،احسن العلماء حضرت سید حیدر حسن میاں برکاتی ،والد ماجد مفسر اعظم علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں قادری سے بھی جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت حاصل ہے ۔ [تجلیّات تاج الشریعہ / صفحہ: ١٤٩ ]

بارگاہ مرشد میں مقام: 

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کو اپنے مرشد برحق ،شہزادہ اعلیٰ حضرت تاجدار اہلسنّت امام المشائخ مفتئ اعظم ہند ابو البرکات آل رحمن حضرت علامہ مفتی محمد مصطفی رضاخاں نوری صکی بارگاہ میں بھی بلند مقام حاصل تھا۔ سرکار مفتی اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو آپ سے بچپن ہی سے بے انتہا توقعات وابستہ تھیں جس کا اندازہ ان کے ارشادات عالیہ سے لگایا جاسکتاہے جو مختلف مواقع پر آپ نے ارشاد فرمائے :
” اس لڑکے (حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا) سے بہت اُمید ہے۔”

سرکار مفتی اعظم ہند نے دارالافتاء کی عظیم ذمہ داری آپ کو سونپتے ہوئے فرمایا: ”اختر میاں اب گھر میں بیٹھنے کا وقت نہیں، یہ لوگ جن کی بھیڑ لگی ہوئی ہے کبھی سکون سے بیٹھنے نہیں دیتے ، اب تم اس کام کو انجام دو، میں تمہارے سپرد کرتا ہوں۔”لوگوں سے مخاطب ہو کر مفتی اعظم نے فرمایا:”آپ لوگ اب اختر میاں سلمہ، سے رجوع کریں انہیں کو میرا قائم مقام اور جانشین جانیں۔ ” حضور مفتی اعظم نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری دور میں حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کوتحریراًاپنا قائم مقام و جانشین مقرر فرمایا تھا۔

 

بتاؤں کیسے کتنے پر ضیاء تاج شریعت ہیں ۔ ۔ ۔ شبیہ اعلیٰ حضرت با خدا تاج شریعت ہیں
نبی کے عشق کا جلوہ نظر آتا ہے چہرے میں ۔ ۔ ۔ سراپا پیکر صدق و صفا تاج شریعت ہیں
شجاعت کے ،عدالت کے ،سخاوت کے ہیں وہ پیکر ۔ ۔ ۔ علی ، فاروق ، عثمان کی ادا تاج شریعت ہیں
ہر اک لمحہ ،ہر اک ساعت، شب و دن دیکھئے چل کر ۔ ۔ ۔ ہمیشہ محو ِ عشق مصطفی تاج شریعت ہیں
حبیب ناتواں کو حشر کی گرمی کا کیوں غم ہو ۔ ۔ ۔ شہ بطحاکے دامن کی ہوا تاج شریعت ہیں

فتویٰ نویسی :

١٨١٦ء میںروہیلہ حکومت کے خاتمہ ،بریلی شریف پرانگریز وں کے قبضہ اور حضرت مفتی محمد عیوض صاحب کے روہیلکھنڈ(بریلی) ٹونک تشریف لے جانے کے بعد بریلی کی مسند افتاء خالی تھی ۔ایسے نازک اور پر آشوب دور میں امام العلماء علامہ مفتی رضا علی خاں نقشبندی رضی اللہ تعالی عنہ نے بریلی کی مسند افتاء کورونق بخشی ۔ یہیںسے خانوادہ رضویہ میں فتاویٰ نویسی کی عظیم الشان روایت کی ابتداء ہوئی۔ [بحوالہ:مولانا نقی علی خاں علیہ الرحمہ حیات اور علمی وادبی کارنامے/ صفحہ ٧٨ ] 

لیکن مجموعہ فتاویٰ بریلی شریف میں آپ کی فتویٰ نویسی کی ابتداء ١٨٣١ء لکھی ہے ۔ (غالباً درمیانی عرصہ انگریز قابضوں کی ریشہ دوانیوں کے سبب مسند افتاء خالی ہی رہی) الحمدللہ! ١٨٣١ء سے آج ٢٠٠٩ء تک یہ تابناک سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ یعنی خاندان رضویہ میں فتاویٰ نویسی کی ایمان افروز روایت ١٧٨/ سال سے مسلسل چلی آرہی ہے ۔امام الفقہأ ،حضرت علامہ مفتی محمد رضا علی خاں قادری بریلوی،امام المتکلمین ،حضرت علامہ مولانامحمد نقی علی خاں قادری برکاتی،اعلیٰ حضرت ،مجدد دین وملت ،حضرت علامہ مولانا مفتی محمد احمد رضا خاں قادری برکاتی ،شہزادہئ اعلیٰ حضرت ،حجۃ الالسلام ،جمال الانام حضرت علامہ مولانا مفتی حامد رضا خاں قادری رضوی، شہزادہئ اعلیٰ حضرت تاجدار اہل سنت ،مفتئ اعظم ہند ،علامہ مولانا مفتی محمد مصطفی رضا خاں قادری نوری، نبیرہ اعلیٰ حضرت ،مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں قادری رضوی اوراب ان کے بعد اب قاضی القضاۃ فی الہند ،تاج الشریعہ ،حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خاں قادری ازہری دام ظلہ، علینا١٩٦٧ء سے تادم تحریر٤٢/سال سے اس خدمت کو بحسن و خوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ [بحوالہ: فتاویٰ بریلی شریف /صفحہ:٢٢]

آپ خود اپنے فتوی نویسی کی ابتداء سے متعلق فرماتے ہیں:”میں بچپن سے ہی حضرت (مفتی اعظم) سے داخل سلسلہ ہو گیا ہوں، جامعہ ازہر سے واپسی کے بعد میں نے اپنی دلچسپی کی بناء پر فتویٰ کا کام شروع کیا۔ شروع شروع میں مفتی سید افضل حسین صاحب علیہ الرحمتہ اور دوسرے مفتیانِ کرام کی نگرانی میں یہ کام کرتا رہا۔ اور کبھی کبھی حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر فتویٰ دکھایا کرتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد اس کام میں میری دلچسپی زیادہ بڑھ گئی اور پھر میں مستقل حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے لگا۔ حضرت کی توجہ سے مختصر مدت میں اس کام میں مجھے وہ فیض حاصل ہوا کہ جو کسی کے پاس مدتوں بیٹھنے سے بھی نہ ہوتا ۔” [مفتئ اعظم ہند اور ان کے خلفاء صفحہ :١٥٠/جلد :١]

حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کے فتاویٰ سارے عالم میں سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ دقیق و پیچیدہ مسائل جو علماء اور مفتیان کرام کے درمیان مختلف فیہ ہوں ان میں حضرت کے قول کو ہی فیصل تسلیم کیا جاتا ہے اور جس فتوے پر آپ کی مہر تصدیق ثبت ہو خواص کے نزدیک بھی وہ انتہائی معتبر ہوتاہے۔ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کے فتاویٰ سے متعلق جگرگوشہ صدرالشریعہ ، محدث کبیر حضرت علامہ مفتی ضیاء المصطفیٰ اعظمی دامت برکاتہم العالیہ رقم طراز ہیں: ”تاج الشریعہ کے قلم سے نکلے ہوئے فتاویٰ کے مطالعہ سے ایسا لگتا ہے ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ کی تحریر پڑھ رہے آپ کی تحریرمیںدلائل اور حوالہ جات کی بھر مار سے یہی ظاہر ہوتاہے ۔” [حیات تاج الشریعہ/صفحہ٦٦]

حج وزیات: 

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا نے پہلی مرتبہ حج وزیارت کی سعادت ١٤٠٣ھ/ ١٩٨٣ء میں حاصل کی ۔ دوسری مرتبہ ١٤٠٥ھ/ ١٩٨٥ء اور تیسری مرتبہ ١٤٠٦ھ/١٩٨٦ء میں اس سعادت عظمیٰ سے مشرف ہوئے ۔جبکہ چوتھی مرتبہ ١٤٢٩ھ/٢٠٠٨ء میں آپ نے حج بیت اللہ ادا فرمایا۔ نیز متعدد مرتبہ آپ کو سرکار عالی وقار کی بارگاہ بے کس پناہ سے عمرہ کی سعادت بھی عطا ہوئی ۔

اعلائے کلمۃ الحق:

احقاق حق و ابطال باطل ،خانوادہئ رضویہ کی ان صفات میں سے ہے جس کا اعتراف نہ صرف اپنوں بلکہ بیگانوں کو بھی کرنا پڑا۔یہاں حق کے مقابل نہ اپنے پرائے کا فرق رکھا جاتا ہے نہ امیر و غریب کی تفریق کی جاتی ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کا دور تو تھا ہی فتنوں کا دور ہر طرف کفرو الحاد کی آندھیاں چل رہی تھیں لیکن علم بردار حق سیدی اعلیٰ حضرتص نے کبھی باطل کے سامنے سر نہ جھکایاچاہے ذبحِ گائے کا فتنہ ہویاہندو مسلم اتحاد کا ، تحریک ترک موالات ہو یا تحریک خلافت یہ مرد مومن آوازہئ حق بلند کرتا ہی رہا۔ سرکارمفتئ اعظم صکی حق گوئی وبے باکی بھی تاریخ کا درخشندہ باب ہے شدھی تحریک کا زمانہ ہو یانسبندی کاپر خطر دور ہوآپ نے علم حق کبھی سرنگوں نہ ہونے دیا۔ اللہ رب العزت نے جانشےن مفتی اعظم کواپنے اسلاف کا پرتو بنایاہے ۔آپ کی حق گوئی اور بے باکی بھی قابل تقلید ہے۔ وقتی مصلحتیں،طعن و تشنیع ، مصائب وآلام یہاں تک کہ قید و بند کی صعوبتیں بھی آپ کو راہ حق سے نہ ہٹا سکی ۔آپ نے کبھی اہل ثروت کی خوشی یا حکومتی منشاء کے مطابق فتویٰ نہےں تحرےر فرماےا، ہمیشہ صداقت و حقانےت کا دامن تھامے رکھا ۔اس راہ میں کبھی آپ نے اپنے پرائے ، چھوٹے بڑے کافرق ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ ہر معاملہ میں آپ اپنے آباء و اجدادکی روشن اور تابناک روایتوں کی پاسداری فرماتے رہے ہیں۔شیخ عالم حضرت علامہ سیدشاہ فخر الدین اشرف الاشرفی کچھوچھوی دامت برکاتہم القدسیہ زیب سجادہ کچھوچھہ مقدسہ تحریر فرماتے ہیں: ”علامہ (حضورتاج الشریعہ کا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر حال میں باد سموم کی تیز و تند،غضبناک آندھیوں کی زد میں بھی استقامت علی الحق کا مظاہر ہ کرنا اور ثابت قدم رہنا یہ وہ عظیم وصف ہے جس نے مجھے کافی متاثر کیا۔” [تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :٢٥١]

اس سلسلہ میں ٢/ واقعات درج ذیل ہیں ۔تیسری مرتبہ١٩٨٦ئ/١٤٠٦ھ حج کے موقع پرسعودی حکومت نے آپ کو بیجا گرفتار کرلیااس موقع پر آپ نے حق گوئی و بے باکی کاجومظاہرہ کیا وہ آپ ہی کاحصہ ہے۔ سعودی مظالم کی مختصرسی جھلک خود حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:”مختصر یہ کہ مسلسل سوالات کے باوجود میرا جرم میرے بار بار پوچھنے کے بعد بھی مجھے نہ بتایا بلکہ یہی کہتے رہے کہ : ”میرا معاملہ اہمیت نہیں رکھتا۔” لیکن اس کے باوجود میری رہائی میں تاخیر کی اور بغیر اظہار جرم مجھے مدینہ منورہ کی حاضری سے موقوف رکھا اور١١/ دنوں کے بعد جب مجھے جدہ روانہ کیا گیا تو میرے ہاتھوں میں جدہ ائیر پورٹ تک ہتھکڑی پہنائے رکھی اور راستے میں نماز ظہر کے لیے موقع بھی نہ دیا گیا اس وجہ سے میری نماز ظہر قضاہو گئی۔” [مفتئ اعظم ہند اور ان کے خلفاء صفحہ :١٥٠/جلد :١]

ذیل کے اشعار میںحضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا نے اسی واقعہ کا ذکرفرمایا ہے ۔

 

نہ رکھا مجھ کو طیبہ کی قفس میں اس ستم گر نے
ستم کیسا ہوا بلبل پہ یہ قید ستم گر میں
ستم سے اپنے مٹ جاؤ گے تم خود اے ستمگارو
سنو ہم کہہ رہے ہیں بے خطرہ دورِستم گر میں

سعودی حکومت کے اس متعصب رویہ ،حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی بیجا گرفتاری اور مدینہ طیبہ کی حاضری سے روکے جانے پر پورے عالم اسلام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ، مسلمانان اہل سنت کی جانب سے ساری دنیا میں سعودی حکومت کے خلاف احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوگیا ، اخبارات و رسائل نے بھی آپ کی بےجا گرفتاری کی شدید مذمت کی۔ آخر کاراہل سنت و جماعت کی قربانیاں رنگ لائیں ، سعودی حکومت کو سر جھکانا پڑا ،اس وقت کے سعودی فرمانروا شاہ فہد نے لندن میں یہ اعلان کیا کہ ”حرمین شرفین میں ہر مسلک کے لوگوں کو ان کے طریقے پر عبادات کرنے کی آزادی ہو گی۔” نیز آپ کو زیارت مدینہ طیبہ اور عمرہ کے لئے ایک ماہ کا خصوصی ویزہ بھی دیا۔ اس معاملہ میں قائد اہلسنّت حضرت علامہ ارشد القادری رضی اللہ تعالی عنہ کی کاوشیں قابل ذکر ہیں۔

خلیفہ سرکار مفتی اعظم ہند ، علامہ بدر الدین احمد قادر ی حضور تاج الشریعہ دام ظلہ علینا کی حق گوئی سے متعلق رقم طراز ہیں : ”حضرت سرکار خواجہ غریب نواز کے سالانہ عرس پاک کے موقع پر میں اجمیر مقدس حاضر ہوا، چھٹویں رجب ١٤٠٩ھ بروز دوشنبہ مبارکہ (پیر) مطابق ١٣/فروری١٩٨٩ء کو حضرت سید احمد علی صاحب قبلہ خادم درگاہ سرکار خواجہ صاحب کے کاشانہ پر قل شریف کی محفل منعقد ہوئی ۔ محفل میں حضرت علامہ مولانا اختر رضاازہری قبلہ مدظلہ، العالی اور حضرت مولانا مفتی رجب علی صاحب قبلہ ساکن نانپارہ بہرائچ شریف نیز دیگر علماء کرا م موجود تھے ۔ قل شریف کے اس مجمع میں سرکار شیر بیشہئ اہلسنّت امام المناظرین حضور مولانا علامہ محمد حشمت علی خاں علیہ الرحمۃ والرضوان کے شاہزادے حضرت مولانا ادریس رضا خاں صاحب تقریر کر رہے تھے ۔ اثنائے تقریر میں مولانا موصوف کی زبان سے یہ جملہ نکلا کہ:” ہمارے سرکار پیارے مصطفی اپنے غلاموں کو اپنی کالی کملی میں چھپائیں گے ۔ ” فوراً حضرت علامہ ازہری صاحب قبلہ نے مولانا موصوف کو ٹوکتے ہوئے فرمایا کہ (کالی کملی کے بجائے )نوری چادر کہو۔ یہ شرعی تنبیہ سنتے ہی مولانا موصوف نے اپنی تقریر روک کر پہلے حضرت علامہ ازہری قبلہ کی تنبیہ کو سراہا ، بعدہ، بھرے مجمع میں یہ واضح کیا کہ ”کملی ”تصغیر کا کلمہ ہے جس کو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکے بولنا ہر گز جائز نہیں اور چوں کہ میری زبان سے یہ خلاف شریعت کلمہ نکلا اس لئے میں بارگاہ الٰہی د میں اس کلمہ کے بولنے سے توبہ کرتاہوں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے ۔ (ھٰذَا اَوْکَمَا قَالَ )پھر توبہ کے بعد موصوف نے اپنی بقیہ تقریر پوری کی ۔ ” [عطیہ ربانی در مقالہ نورانی ،صفحہ :٢٣،٢٤]

 

جس طرح بے مثال ہے اختر رضا کی ذات ۔ ۔ ۔ اس طرح باکمال ہے اختر رضا کی بات
فلک رضا کا اختر کامل ہے دوستو! ۔ ۔ ۔ کس درجہ پُرضیاء ہے اختر رضا کی ذات
چپ رہ رقیب روسیہ بدخواہ بدنصیب ۔ ۔ ۔ سونے کے مول تلتی ہے آخر کہیں پہ دھات
کیوں کر نہ گونجے دھر میں نغمہ رضا کا پھر ۔ ۔ ۔ فکر رضا کی بین ہے اختر رضا کے ہاتھ
عرفان گرچہ عارفِ راہِ سخن نہیں ۔ ۔ ۔ کہہ دی وفور عشق میں اختر رضا کی بات

زہد و تقویٰ :

حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینااخلاق حسنہ اور صفات عالیہ کا مرقع ہیں۔حکمت و دانائی ، طہارت و پاکیزگی ،بلندیئ کردار،خوش مزاجی و ملنساری ،حلم و بردباری ، خلوص و للّٰہیت،شرم و حیا،صبر و قناعت ،صداقت و استقامت بے شمار خوبیاں آپ کی شخصیت میں جمع ہیں ،وہیں آپ زہد و تقویٰ کا بھی مجسم پیکر ہیں۔آپ کے تقویٰ ایک جھلک ذیل کے واقعات میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

مولانا غلام معین الدین قادری (پرگنہ ،مغربی بنگال)لکھتے ہیں:”حضورتاج الشریعہ سے حضرت پیر سید محمد طاہر گیلانی صاحب قبلہ بہت محبت فرمایا کرتے ان کے اصرار پر حضرت پاکستان بھی تشریف لے گئے واہگہ سرحد پر حضرت کا استقبال صدر مملکت کی طرح ٧/ توپوں کی سلامی دے کر کیا گیا۔حضرت کا قیام ان کے ایک عزیزشوکت حسن صاحب کے یہاں تھا راستے میںایک جگہ ناشتہ کا کچھ انتظام تھاجس میں انگریزی طرز کے ٹیبل لگے تھے حضرت نے فرمایا :”میں پاؤں پھیلاکر کھانا تناول نہیںکروں گا۔” پھر پاؤں سمیٹ کر سنت کے مطابق اسی کرسی پر بیٹھ گئے یہ سب دیکھ کر حاضرین کا زور دار نعرہ ”بریلی کا تقویٰ زندہ باد ” گونج پڑا ۔ ” [تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :٢٥٥]

مولانا منصور فریدی رضوی (بلاسپور ،چھتیس گڑھ)حضرت کے ایک سفر کا حال بیان کرتے ہیں:”محب مکرم حضرت حافظ وقاری محمد صادق حسین فرماتے ہیںکہ ، حضرت تاج الشریعہ کی خدمت کے لئے میں معمور تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنے مقدر پر ناز کررہا تھا کہ ایک ذرہئ ناچیز کو فلک کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہورہا تھا اچانک میری نگاہ حضوروالا(تاج الشریعہ ) کی ہتھیلیوں پر پڑی میں ایک لمحہ کے لئے تھرا گیا آخر یہ کیا ہورہا ہے میری نگاہیں کیا دیکھ رہی ہیں مجھے یقین نہیں ہورہا ہے ۔ آپ تو گہری نیند میں ہیں پھر آپ کی انگلیاں حرکت میں کیسے ہیں؟ میں نے مولانا عبد الوحید فتح پوری جو اس وقت موجود تھے اور دیگر افراد کو بھی اس جانب متوجہ کیا تما م کے تما م حیرت و استعجاب میں ڈوب گئے تھے ، معاملہ یہ ہے کہ آپ کی انگلیاں اس طرح حرکت کررہی تھیں گویا آپ تسبیح پڑھ رہے ہوں اور یہ منظرمیں اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک آپ بیدار نہیں ہوگئے ۔ان تمام تر کیفیات کو دیکھنے کے بعد دل پکار اٹھتا ہے کہ ؎ سوئے ہیں یہ بظاہر د ل ان کا جاگتا ہے ” [تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :٣١٤]

ولی باکرامت :

حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا جہاں ایک عاشق صادق، باعمل عالم ،لاثانی فقیہ ، باکمال محدث ،لاجواب خطیب ،بے مثال ادیب ، کہنہ مشق شاعرہیں وہیں آپ باکرامت ولی بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے استقامت سب سے بڑی کرامت ہے اور حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی یہی کرامت سب سے بڑھ کر ہے ۔ ضمناًآپ کی چند کرامات پیش خدمت ہیں۔

مفتی عابد حسین قادری (جمشید پور، جھارکھنڈ )لکھتے ہیں:”٢٢/جون ٢٠٠٨ء محب محترم جناب قاری عبد الجلیل صاحب شعبہ قرأت مدرسہ فیض العلوم جمشید پور نے راقم الحروف سے فرمایا کہ، ٥/ سال قبل حضرت ازہری میاں قبلہ دار العلوم حنفیہ ضیا القرآن ،لکھنؤ کی دستار بندی کی ایک کانفرنس میں خطاب کے لئے مدعو تھے ۔ ان دنوں وہاں بارش نہیں ہو رہی تھی ،سخت قحط سالی کے ایام گزررہے تھے، لوگوں نے حضرت سے عرض کی کہ حضور بارش کے لئے دعا فرمادیں ۔ حضرت نے نماز ِ استسقاء پڑھی اور دعائیں کیں ابھی دعا کرہی رہے تھے کہ وہاں موسلادھار بارش ہونے لگی اور سارے لوگ بھیگ گئے ۔ ” [تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :٢٢٩] 

ڈاکٹر غلام مصطفی نجم القادری (ممبئی) لکھتے ہیں :” میسور میں حضرت کے ایک مرید کی دکان کے بازو میں کسی متعصب مارواڑی کی دکان تھی ، وہ بہت کوشش کرتاتھا کہ دکان اس کے ہاتھ بیچ کر یہ مسلمان یہاں سے چلا جائے ، اپنی اس جدو جہد میں وہ انسانیت سوز حرکتیں بھی کرگزرتا ، اخلاقی حدوں کو پار کرجاتا، مجبور ہو کر حضرت کے اس مرید نے حضرت کو فون کیا ، حالات کی خبر دی ، معاملات سے مطلع کیا ،حضرت نے فرمایا:”میں یہاں تمہارے لئے دعا گو ہوں، تم وہاں ہر نماز کے بعد خصوصاً اورچلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھے سوتے جاگتے عموماً یاقادرکا ورد کرتے رہو۔”اس وظیفے کے ورد کو ابھی ١٥/دن ہی ہوا تھا کہ نہ معلوم اس مارواڑی کو کیا ہوا ، وہ جو بیچارے مسلمان کو دکان بیچنے پر مجبور کردیا تھااب خود اسی کے ہاتھ اپنی دکان بیچنے پر اچانک تیار ہوگیا ۔ مارواڑی نے دکان بیچی ،مسلمان نے دکان خریدی، جو شکار کرنے چلا تھا خود شکار ہو کر رہ گیا۔ آج وہ حضرت کا مرید باغ و بہار زندگی گزار رہا ہے ۔ ” [تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :١٧٥،١٧٦]

موصوف مزیدلکھتے ہیں:”ہبلی میں ایک صاحب نے کروڑوں روپے کے صرفے سے عالیشان محل تیار کیا ، مگر جب سکونت اختیار کی تو یہ غارت گرسکون تجربہ ہوا کہ رات میں پورے گھر میں تیز آندھی چلنے کی آواز آتی ہے ۔ گھبرا کر مجبوراً اپنا گھر چھوڑ کر پھر برانے گھر میں مکین ہونا پڑا۔ اس اثناء میں جس کو بھی بھاڑے (کرایہ )پر دیا سب نے وہ آواز سنی اور گھر خالی کردیا۔ ایک عرصے سے وہ مکان خالی پڑا تھا کہ ہبلی میں حضرت کا پروگرام طے ہوا ، صاحب مکان نے انتظامیہ کو اس بات پر راضی کرلیا کہ حضرت کا قیام میرے نئے کشادہ مکان میں رہے گا ، مہمان نوازی کی اوردیگر لوازمات کی بھی ذمہ داری اس نے قبول کرلی ، حضرت ہبلی تشریف لائے اور رات میں صرف چندہ گھنٹہ اس مکان میں قیام کیا ، عشاء اور فجر کی ٢/وقت کی نماز باجماعت ادا فرمائیں،اس مختصر قیام کی برکت یہ ہوئی کہ کہاں کی آندھی اورکہاں کا طوفان ، کہاں کی سنسناہٹ اور کہا ں کی گڑگڑاہٹ سب یکسر معدوم ، آج تک وہ مکان سکون و اطمینان کا گہوارہ ہے ۔ [تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :١٧٦]

تصانیف : 

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا اپنے جد امجد مجدد دین ملت سیدنا اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے مظہر اتم اور پر تو کامل ہیں ۔ اعلیٰ حضرت کی تحریری خدمات اور طرز تحریر محتاج تعارف نہیں ہے۔ حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا میدان تحریر میں بھی اعلیٰ حضرت کا عکس جمیل نظر آتے ہیں۔ آپ کی تصانیف و تحقیقات مختلف علوم و فنون پر مشتمل ہیں۔تحقیقی انداز ،مضبوط طرزا ستدال ، کثرت حوالہ جات، سلاست وروانی آپ کی تحریر کو شاہکار بنا دیتی ہے۔ آپ اپنی تصانیف کی روشنی میں یگانہئ عصر اور فرید الدہر نظر آتے ہیں۔حضرت محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ اعظمی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ”تاج الشریعہ کے قلم سے نکلے ہوئے فتاویٰ کے مطالعہ سے ایسا لگتا ہے کہ ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا صکی تحریر پڑھ رہے ہیں، آپ کی تحریر میں دلائل اور حوالہ جات کی بھر مار سے یہی ظاہر ہوتا ہے ۔”[حیات تاج الشریعہ/صفحہ :٦٦]

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا افتاء و قضا، کثیر تبلیغی اسفار اوردیگر بے تحاشہ مصرفیات کے باوجود تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔آپ کی تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے۔

اردو

١۔۔۔۔۔۔ ہجرت رسول
٢۔۔۔۔۔۔ آثار قیامت
٣۔۔۔۔۔۔ ٹائی کا مسئلہ
٤۔۔۔۔۔۔ حضرت ابراہیم کے والد تارخ یا آزر
٥۔۔۔۔۔۔ ٹی وی اور ویڈیوکا آپریشن مع شرعی حکم
٦۔۔۔۔۔۔ شرح حدیث نیت
٧۔۔۔۔۔۔ سنو چپ رہو
٨۔۔۔۔۔۔ دفاع کنز الایمان (2جلد)
٩۔۔۔۔۔۔ الحق المبین
١٠۔۔۔۔۔۔ تین طلاقوں کا شرعی حکم
١١۔۔۔۔۔۔ کیا دین کی مہم پوری ہوچکی ؟
١٢۔۔۔۔۔۔ جشن عید میلاد النبی
١٣۔۔۔۔۔۔ سفینہ بخشش (نعتیہ دیوان )
١٤۔۔۔۔۔۔ فضیلت نسب
١٥۔۔۔۔۔۔ تصویر کا مسئلہ
١٦۔۔۔۔۔۔ اسمائے سورۃ فاتحہ کی وجہ تسمیہ
١٧۔۔۔۔۔۔ القول الفائق بحکم الاقتداء بالفاسق
١٨۔۔۔۔۔۔ سعودی مظالم کی کہانی اختر رضا کی زبانی
١٩۔۔۔۔۔۔ العطایاالرضویہ فی فتاویٰ الازہریہ المعروف ازہرالفتاویٰ (زیر ترتیب 5جلد)

عربی تصانیف

١۔۔۔۔۔۔ الحق المبین
٢۔۔۔۔۔۔ الصحابۃ نجوم الاھتداء
٣۔۔۔۔۔۔ شرح حدیث الاخلاص
٤۔۔۔۔۔۔ نبذۃ حیاۃ الامام احمد رضا
٥۔۔۔۔۔۔ سد المشارع
٦۔۔۔۔۔۔ حاشیہ عصیدۃ الشہدہ شرح القصیدۃ البردہ
٧۔۔۔۔۔۔ تعلیقاتِ زاہرہ علی صحیح البخاری
٨۔۔۔۔۔۔ تحقیق أن أباسیدنا إبراہیم ں (تارح)لا(آزر)
٩۔۔۔۔۔۔ مراۃ النجدیہ بجواب البریلویہ (2جلد)
۱۰۔۔۔۔۔۔ نهاية الزين في التخفيف عن أبي لهب يوم الإثنين
۱۱۔۔۔۔۔۔ الفردۃ فی شرح قصیدۃ البردۃ

تراجم 

١۔۔۔۔۔۔ انوار المنان فی توحید القرآن
٢۔۔۔۔۔۔ المعتقد والمنتقد مع المعتمد المستمد
٣۔۔۔۔۔۔ الزلال النقیٰ من بحر سبقۃ الاتقی

تعاریب

١۔۔۔۔۔ ۔برکات الامداد لاہل استمداد
٢۔۔۔۔۔۔ فقہ شہنشاہ
٣۔۔۔۔۔۔ عطایا القدیر فی حکم التصویر
٤۔۔۔۔۔۔ اہلاک الوہابین علی توہین القبور المسلمین
٥۔۔۔۔۔۔ تیسیر الماعون لسکن فی الطاعون
٦۔۔۔۔۔۔ شمول الاسلام لاصول الرسول الکرام
٧۔۔۔۔۔۔ قوارع القھارفی الردالمجسمۃ الفجار
٨۔۔۔۔۔۔ الہاد الکاف فی حکم الضعاف
٩۔۔۔۔۔۔ الامن والعلی لناعیتی المصطفی بدافع البلاء
۱۰۔۔۔۔۔۔ سبحان السبوح عن عيب كذب المقبوح
۱۱۔۔۔۔۔۔ حاجز البحرين الواقي عن جمع الصلاتين

علاوہ ازیںچند مضامین مفتی اعظم ہند ،علم فن کے بحرذخاراوررویت ہلال کا ثبوت وغیرہ شامل ہیں ۔

 

کتنا مقام اعلیٰ اختر رضا کا ہے ۔ ۔ ۔ ولیوں میں نام اونچا اختر رضا کا ہے
رضوی چمن کے جیسے رنگیں گلاب کا سا ۔ ۔ ۔ ایسا حسین چہرہ اختر رضا کا ہے
عالم بھی کہہ رہے ہیں اب تو مقام والا ۔ ۔ ۔ سب سے بلند و بالا اختر رضا کا ہے
دل دشمنانِ دین کے لرزاں ہیں اس قدر ۔ ۔ ۔ اعداء پہ رعب ایسا اختر رضا کا ہے
میرے لئے نہیں ہے کچھ آفتاب محشر ۔ ۔ ۔ مجھ پر زمان سایہ اختر رضا کا ہے

عربی ادب :

حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علیناعربی ادب پر بھی کمال مہارت اور مکمل دسترس رکھتے ہیںآپ کی عربی تصانیف بالخصوص تعلیقاتِ زاہرہ (صحیح البخاری پرابتداء تا باب بنیان الکعبہ آپ کی گرانقدر تعلیقات) اور سیدنا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کی جن کتب کی آپ نے تعریب فرمائی ہے ہمارے دعوے کی بین دلیل ہیں۔حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی عربی زبان و ادب پر کامل عبور کا اندازہ سیدنا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے رسالہ” شمول الاسلام لاصول الرسول الکرم ”جس کی تعریب آپ نے فرمائی ہے اورآپ کے رسالہ ”أن أباسیدنا ابراہیم ں تارح لاآزر”پر علمائے عرب کی شاندار تقاریظ اور حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کو دیئے گئے القابات و خطابات سے کیا جاسکتاہے ۔

حضرت شیخ عبداللہ بن محمد بن حسن بن فدعق ہاشمی (مکہ مکرمہ) فرماتے ہیں: ”ترجمہ: یہ کتاب نہایت مفیدواہم مباحث اور مضامین عالیہ پر حاوی ہے ،طلبہ و علماء کو اس کی اشد ضرورت ہے ۔” آپ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کو ان القاب سے ملقب کرتے ہیں: ”فضیلۃ الامام الشیخ محمد اختر رضا خاں الازہری، المفتی الاعظم فی الہند،سلمکم اللّٰہ وبارک فیکم”

ڈاکٹر شیخ عیسیٰ ابن عبداللہ بن محمد بن مانع حمیری(سابق ڈائریکٹر محکمہئ اوقاف وامور اسلامیہ،دبئی و پرنسپل امام مالک کالج برائے شریعت و قانون،دبئی) ڈھائی صفحات پر مشتمل اپنے تاثرات کے اظہار کے بعد فرماتے ہیں: ”الشیخ العارف باللّٰہ المحدث محمد اختر رضا الحنفی القادری الازہری”

حضرت شیخ موسیٰ عبدہ یوسف اسحاقی (مدرس فقہ و علوم شرعیہ،نسابۃ الاشراف الاسحاقیہ ،صومالیہ) محو تحریرہیں:”استاذالاکبرتاج الشریعہ فضیلۃ الشیخ محمد اختر رضا ، نفعنااللہ بعلومہ وبارک فیہ ولاعجب فی ذلک فانہ فی بیت بالعلم معرف وبالارشاد موصوف وفی ھذا الباب قادۃ اعلام”

حضرت شیخ واثق فواد العبیدی (مدیر ثانویۃ الشیخ عبدالقادرالجیلانی) اپنے تاثرات کا اظہار یو ں کرتے ہیں:”ترجمہ:حضرت تاج الشریعہ کی یہ تحقیق جو شیخ احمد شاکر محدث مصر کے رد میں ہے قرآن و سنت کے عین مطابق ہے آپ نے اس تحقیق میں جہد مسلسل اور جانفشانی سے کام لیاہے میں اس کے مصادر و مراجع کامراجعہ کیا تو تمام حوالہ جات قرآن وحدیث کے ادلہ عقلیہ و نقلیہ پر مشتمل پائے ، اور مشہور اعلام مثلاً امم سبکی ، امام سیوطی ، امام رازی اور امام آلوسی وغیرہ کے اقوال نقل کئے ہیں۔” اور آپ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کا تذکر ہ ان الفاظ میں کرتے ہیں: ”شیخنا الجلیل ،صاحب الرد قاطع ، مرشدالسالیکن ، المحفوظ برعایۃ رب العالمین،العالم فاضل ،محمد اختر رضا خاں الحنفی القادری الازہری ،وجزاء خیر مایجازی عبد امین عبادہ”

حضرت مفتی اعظم عراق شیخ جمال عبدالکریم الدبان حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کو ان القابات سے یاد کرتے ہیں:”الامام العلامۃ القدوۃ ،صاحب الفضیلۃ الشیخ محمد اختر رضاالحنفی القادری ، ادامہ اللّٰہ وحفظہ ونفع المسلمین ببرکۃ”

علم حدیث:

حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا اس میدان کے بھی شہہ سوار ہیں۔ علم حدیث ایک وسیع میدان ، متعدد انواع ،کثرت علوم اور مختلف فنون سے عبارت ہے جو علم قواعدمصطلحات حدیث ،دراستہ الاسانید ، علم اسماء الرجال ، علم جرح و تعدیل وغیرہم علوم و فنون پر مشتمل ہے ۔ علم حدیث میں حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی قدرت تامہ ، لیاقت عامہ،فقاہت کاملہ،عالمانہ شعور ،ناقدانہ بصیرت اور محققانہ شان وشوکت علم حدیث سے متعلق آپ کی تصانیف شرح حدیث الاخلاص (عربی ،اردو)،اصحابی کالنجوم فایھم اقتدیتم اہتدیتم (الصحابہ نجوم الاھتدائ)، تعلیقات زاہرہ ، آثار قیامت سے خصوصاً ودیگر کتب سے عموماً آشکار ہے ۔مولانا محمد حسن ازہری (جامعۃ الازہر ،مصر)رقم طراز ہیں:”اصحابی کالنجوم الخ کے تعلق سے حضورتاج الشریعہ مدظلہ، العالی نے جو تحقیقی مرقع پیش کیاہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اصول حدیث پر حضورتاج الشریعہ کو کس قدر ملکہ حاصل ہے ۔” [تجیلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ٣٨٦]

ترجمہ نگاری :

ترجمہ نگاری انتہائی مشکل فن ہے ۔ترجمہ کا مطلب کسی بھی زبان کے مضمون کو اس انداز سے دوسری زبان میں منتقل کرنا ہے کہ قاری کو یہ احساس نہ ہونے پائے کہ عبارت بے ترتیب ہے یا اس میں پیوند کاری کی گئی ہے۔ کماحقہ، ترجمہ کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔ اس میں ایک زبان کے معانی اور مطالب کودوسری زبان میں اس طرح منتقل کیا جاتاہے کہ اصل عبارت کی خوبی اور مطلب ومفہوم قاری تک صحیح سلامت پہنچ جائے۔یعنی اس بات کا پورا خیال رکھاجائے اصل عبارت کے نہ صرف پورے خیالات و مفاہیم بلکہ لہجہ و انداز ،چاشنی و مٹھاس ، جاذبیت و دلکشی ،سختی و درشتگی،بے کیفی و بے رنگی اسی احتیاط کے ساتھ آئے جو محرر کا منشا ء ہے اور پھر زبان و بیان کا میعار بھی نقل بمطابق اصل کامصداق ہو۔

علمی و ادبی ترجمے تو صرف دنیاوی اعتبار سے دیکھے جاتے ہیں لیکن دینی کتب خاص کر قرآن وحدیث کا ترجمہ انتہائی مشکل اور دقت طلب امرہے ۔یہاں صرف فن ترجمہ کی سختیاں ہی درپیش نہیںہوتیں بلکہ شرعی اعتبار سے بھی انتہائی خطرہ لاحق رہتاہے کہ کہیں اصل معنی میں تحریف نہ ہوجائے کہ سارا کیا دھرا برباد اور دنیا و آخرت میں سخت مؤاخذہ بھی ہو۔ اس کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جس کاا س سے واسطہ پڑ اہو۔

حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا جہاں دیگر علوم و فنون پر مکمل عبور اور کامل مہارت رکھتے ہیں وہیں ترجمہ نگاری کے میدان میں بھی آپ اپنی مثال آپ ہیں۔ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی ترجمہ نگاری سے متعلق نبیرہئ محدث اعظم ہند ،شیخ طریقت علامہ سیدمحمد جیلانی اشرف الاشرفی کچھوچھوی دامت برکاتہم العالیہکا یہ تبصرہ ملاحظہ فرمایں ۔ ”ارے پیارے! ”المعتقدو المنتقد” فاضل بدایونی نے اور اس پر حاشیہ ” المعتمد المستند ” فاضل بریلوی نے عربی زبان میں لکھا ہے اور جس مندرجہ بالا اقتباس کو ہم نے پڑھا اسے اہل سنت کی نئی نسل کے لئے تاج الشریعہ ،ملک الفقہاء حضرت العلام اختر رضا خاںازہری صاحب نے ان دونوں اکابر ین کے ادق مباحث کو آسان اور فہم سے قریب اسلوب سے مزین ایسا ترجمہ کیا کہ گویا خود ان کی تصنیف ہے ۔ ”المعتمد” کے ترجمہ میں اگر ایک طرف ثقاہت و صلابت ہے تو دوسری طرف دِقتِ نظر و ہمہ گیریت بھی ہے ۔ صحت و قوت کے ساتھ پختگی و مہارت بھی ہے ۔ ترجمہ مذکورہ علامہ ازہری میاں کی ارفع صلاحیتوں کا زندہ ثبوت ہے ۔ اللّٰھم زد فزد” [تجلیّاتِ تاج الشریعہ/صفحہ:٤٣]

وعظ و تقریر:

والد ماجد حضورتاج الشریعہ مفسر اعظم ہند علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں رضی اللہ تعالی عنہ کو قدرت نے زورِ خطابت وبیان وافر مقدار میں عطا فرمایا تھا اور حضورتاج الشریعہ کو تقریروخطاب کا ملکہ اپنے والد ماجد سے ملا ہے ۔آپ کی تقریرانتہائی مؤثر، نہایت جامع ، پرمغز،دل پزیر،دلائل سے مزین ہوتی ہے۔ اردو تو ہے ہی آپ کی مادری زبان مگر عربی اور انگریزی میں بھی آپ کی مہارت اہل زبان کے لئے بھی باعث حیرت ہوتی ہے ۔ اس کا اندازہ حضرت محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کے اس بیان سے باآسانی کیا جاسکتا ہے ،آپ فرماتے ہیں:”اللہ تعالیٰ نے آپ کو کئی زبانوں پر ملکہ خاص عطا فرمایا ہے۔زبان اردو تو آپ کی گھریلو زبان ہے اورعربی آپ کی مذہبی زبان ہے ۔ ان دونوں زبانوں میں آپ کو خصوصی ملکہ حاصل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عربی کے قدیم وجدید اسلوب پر آپ کو ملکہئ راسخ حاصل ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے انگلینڈ ، امریکہ ،ساؤتھ افریقہ ،زمبابوے وغیرہ میں برجستہ انگریزی زبان میں تقریر ووعظ کرتے دیکھاہے اور وہاں کے تعلیم یافتہ لوگوں سے آپ کی تعریفیں بھی سنیں ہیں اور یہ بھی ان سے سنا کہ حضرت کو انگریزی زبان کے کلاسکی اسلوب پرعبور حاصل ہے ۔” [تجلیّاتِ تاج الشریعہ/صفحہ:٤٧]

 

مرے مرشد کا سچا جانشیں ، اختررضا خاں ہے ۔ ۔ ۔ کمال و فضل کا پیکر حسیں ، اختر رضا خاں ہے
رضا کے علم کا وارث ، رضا والوں کا تو قائد ۔ ۔ ۔ ترے آگے جھکی سب کی جبیں، اختررضا خاں ہے
لقب ” تاج شریعت ” کا دیا عالم کے علماء نے ۔ ۔ ۔ وقارِ علم کا مسند نشیں ، اختر رضا خاں ہے
ترا فتویٰ ، ترا تقویٰ ، جزاک اللہ ، جزاک اللہ ۔ ۔ ۔ برائے حق ، برائے نکتہ چیں ، اختر رضا خاں ہے

شاعری :

بنیادی طور پر نعت گوئی کا محرک عشق رسول ہے اور شاعر کا عشق رسول جس عمق یاپائے کا ہوگا اس کی نعت بھی اتنی ہی پر اثر و پرسوز ہو گی۔سیدنا اعلیٰ حضرت صکے عشق رسول نے ان کی شاعری کو جو امتیاز و انفرادیت بخشی اردو شاعری اس کی مثال لانے سے قاصرہے ۔ آپ کی نعتیہ شاعر ی کا اعتراف اس سے بڑھ اور کیا ہوگا کے آج آپ دنیا بھر میں ”امام نعت گویاں ”کے لقب سے پہچانے جاتے ہیں۔

امام احمد رضاصکی اس طرز لاجواب کی جھلک آپ کے خلفاء و متعلقین اور خاندان کے شعراء کی شاعری میں نظر آتی ہے ۔حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کو خاندان اور خصوصاً اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سے جہاں اور بے شمار کمالات ورثہ میںملے ہیں وہیں موزونیئ طبع، خوش کلامی ، شعر گوئی اور شاعرانہ ذوق بھی ورثہ میں ملا ہے ۔آپ کی نعتیہ شاعری سیدنا اعلیٰ حضرتص کے کلام کی گہرائی و گیرائی ، استادِ زمن کی رنگینی و روانی ، حجۃ الاسلام کی فصاحت وبلاغت ، مفتی اعظم کی سادگی و خلوص کا عکس جمیل نظر آتی ہے ۔ آپ کی شاعری معنویت ، پیکر تراشی ، سرشاری و شیفتگی ، فصاحت و بلاغت ، حلاوت و ملاحت، جذب وکیف اورسوز وگدازکا نادر نمونہ ہے۔ علامہ عبد النعیم عزیزی رقم طراز ہیں:”حضرت علامہ اختر رضا خاں صاحب اختر کے ایک ایک شعر کو پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتاہے کہ حسن معنی حسن عقیدت میں ضم ہوکر سرمدی نغموں میں ڈھل گیا ہے ۔ زبان کی سلاست اور روانی ،فصاحت و بلاغت ،حسن کلام، طرز ادا کا بانکپن،تشبیہات و استعارات اور صنائع لفظی و معنوی سب کچھ ہے گویا حسن ہی حسن ہے ،بہار ہی بہار ہے اور ہر نغمہ وجہ سکون و قرار ہے ۔ [نغمات اختر المعروف سفینہئ بخشش/صفحہ:٤]

حضرت علامہ بدر الدین احمد قادری ، سیدنا اعلیٰ حضرت کی شاعری سے متعلق تحریرفرماتے ہیں:”آپ عام ارباب سخن کی طرح صبح سے شام تک اشعار کی تیاری میں مصروف نہیں رہتے تھے بلکہ جب پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تڑپاتی اور دردِ عشق آپ کو بے تاب کرتا تو از خود زبان پر نعتیہ اشعار جاری ہوجاتے اور یہی اشعار آپ کی سوزش عشق کی تسکین کا سامان بن جاتے ۔” [سوانح اعلیٰ حضرت / صفحہ:٣٨٥]

بعینہ یہی حال حضور تا ج الشریعہ کا ہے ، جب یاد مصطفی ادل کو بے چین کردیتی ہے توبے قراری کے اظہار کی صورت نعت ہوتی ہے ۔آپ نے اپنی شاعری میں جہاں شرعی حدود کا لحاظ رکھا ہے وہیں فنی و عروضی نزاکتوںکی محافظت میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ ہونے دیا اور ادب کو خوب برتا، استعمال کیا ، سجایا،نبھایاتاکہ جب یہ کلام تنقید نگاروں کی چمکتی میز پر قدم رنجہ ہو توانہیں یہ سوچنے پر مجبور کردے کہ فکر کی یہ جولانی ،خیال کی یہ بلند پرواز ،تعبیر کی یہ ندرت،عشق کی یہ حلاوت واقعی ایک کہنہ مشق اور قادر الکلام شاعر کی عظیم صلاحیتوںکی مظہر ہے۔فن شاعری،زبان و بیان اورادب سے واقفیت رکھنے والاہی یہ اندازہ کرسکتاہے کہ حضرت اختر بریلوی کے کلام میںکن کن نکات کی جلوہ سامانیاں ہیں، کیسے کیسے حقائق پوشیدہ ہیں، کلمات کی کتنی رعنائیاںپنہاں ہیں اور خیالات میں کیسی وسعت ہے؟

آپ کا کلام اگرچہ تعداد میں زیادہ نہیں ہے لیکن آپ کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر، شرعی قوانین کی پاسداری کی شاندار مثال ہے ،آپ کے اسلاف کی عظیم وراثتوں کابہترین نمونہ اور اردو شاعری خصوصاً صنف نعت میں گرانقدر اضافہ بھی ہے

آپ کو نئے لب ولہجہ اور فی البدیہہ اشعار کہنے میں زبردست ملکہ حاصل ہے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے جسے خلیفہ مفتی اعظم ہند حضرت مولانا قاری امانت رسول قادری رضوی صاحب مرتب ”سامانِ بخشش” ( نعتیہ دیوان سرکار مفتئ اعظم ہند) نے مفتئ اعظم ہند کی مشہور نعت شریف

تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ
تو ماہ نبوت ہے اے جلوہ جانانہ

سے متعلق حاشیہ میں لکھتے ہیں :”مولوی عبد الحمید رضوی افریقی یہ نعت پاک حضور مفتئ اعظم ہند قبلہ قدس سرہ، کی مجلس میں پڑھ رہے تھے، جب یہ مقطع

آباد اسے فرما ویراں ہے دل نوری
جلوے تیرے بس جائیں آباد ہو ویرانہ

پڑھا تو حضرت قبلہ نے فرمایا ،بحمدہ تعالیٰ فقیر کا دل تو روشن ہے اب اس کو یوں پڑھو۔۔۔۔۔۔ع

آباد اسے فرما ویراں ہے دل نجدی

جانشین مفتی اعظم ہند مفتی شاہ اختر رضا خاں صاحب قبلہ نے برجستہ عرض کیا، مقطع کو اس طرح پڑھ لیا جائے

سرکار کے جلوؤں سے روشن ہے دل نوری
تا حشر رہے روشن نوری کا یہ کاشانہ 

حضرت قبلہ (سرکار مفتئ اعظم ہند )پسند فرمایا۔” [سامانِ بخشش/صفحہ:١٥٤]

حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا اور علمائے عرب:

سیدنااعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کو جو عزت و تکریم اور القاب وخطابات علمائے عرب نے دیئے ہیںشاید ہی کسی دوسرے عجمی عالم دین کو ملے ہوں۔ بعینہ پرتو اعلیٰ حضرت ،حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کاجو اعزاز و اکرام علمائے عرب نے کیا شاید ہی فی زمانہ کسی کو نصیب ہوا ہو۔ اس کے چند نمونے” علم حدیث” کے عنوان کے تحت گزرے ہیں بعض یہاں ملاحظہ فرمائیں۔

مئی ٢٠٠٩ء میںحضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کے دورہئ مصر کے موقع پرکعبۃ العلم والعلماء جامعۃ الاہر قاہر ہ مصر میں آپ کے اعزاز میں عظیم الشان کانفرنس منعقد کی گئی ۔ جس میں جامعہ کے جید اساتذہ اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے طلباء نے شرکت کی ۔ اس کانفرنس کی انفرادیت یہ تھی کہ برصغیر کے کسی عالم دین کے اعزاز میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کانفرنس تھی۔

اسی دورہ مصر کے موقع پر جامعۃ الازہر کی جانب سے آپ کو جامعہ کا اعلیٰ ترین اعزاز ”شکر و تقدیر(فخر ازہر ایوارڈ)” بھی دیا گیا۔

جید علمائے مصر خصوصاً شیخ یسریٰ رشدی (مدرس بخاری شریف ،جامعۃ الازہر) نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت بھی کی اور اجازت حدیث و سلاسل بھی طلب کیں۔

حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کے رسائل اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدیتم اہتدیتماورأن أباسیدنا ابراہیم ں تارح لاآزرکے مطالعہ کے بعد جامعۃ الازہر ، قاہرہ مصر کے شیخ الجامعہ علامہ سید محمد طنطاوی نے اپنے سابقہ موقف سے رجوع کیا اور حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کے موقف کو قبول فرمایا ۔قبل ازیں آپ کا موقف اس کے برعکس تھا آپ مذکورہ حدیث کو موضوع خیال کرتے اور”آزر” جو ابراہیم ں کا چچا اور مشرک تھا کو آپ ںکا والد قرار دیتے تھے ۔[بحوالہ:سہہ ماہی سفینہئ بخشش/ربیع الثانی تا جمادی الثانی١٤٣٠ھ /صفحہ ٣٤]

یاد رہے یہ حضورتا ج الشریعہ کا جامعۃ الازہر سے سند فراغت کے حصول کے بعد پہلا دورہ تھا ۔ درمیان کے ٤٣/سالوں میں کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

٢٠٠٨ء اور٢٠٠٩ء میں شام کے دوروں کے موقع پر مفتئ دمشق شیخ عبدالفتاح البزم ،اعلم علمائے شام شیخ عبدالرزاق حلبی ،قاضی القضاۃ حمص (شام)اور حمص کی جامع مسجد ”جامع سیدنا خالد بن ولید”کے امام و خطیب شیخ سعید الکحیل،مشہور شامی بزرگ عالم دین شیخ ہشام الدین البرہانی،جلیل القدر عالم دین شیخ عبدالہادی الخرسہ ،خطیب دمشق شیخ السید عبد العزیز الخطیب الحسنی ،رکن مجلس الشعب (قومی اسمبلی) و مدیر شعبہ تخصص جامعہ ابو النوردکتور عبدالسلام راجع، مشہور شامی عالم و محقق شیخ عبدالہادی الشنار، مشہور حنفی عالم اور محشی کتب کثیرہ شیخ عبدالجلیل عطاء ودیگر کئی علماء نے سلاسل طریقت و سند حدیث طلب کی اور کئی ایک آپ سے بیعت بھی ہوئے ۔

٢٠٠٨ء میں آپ نے شام کے علماء کے سامنے جب اپنا مشہورزمانہ عربی قصیدہ اللّٰہ ، اللّٰہ ،اللّٰہ ہومالی رب الا ہو پڑھا۔ جب آپ نے مقطع ہذا اخترادنا کم؛ ربی أحسن مثواہ، پڑھاتو خطیب دمشق الدکتور عبد العزیز الخطیب الحسنی نے برجستہ یہ الفاظ کہے :”أختر سیدنا وابن سیدنا”

مفتئ دمشق عبدالفتاح البزم نے ٢٠٠٩ء میں حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا دورہئ شام کے موقع پراپنی ایک تقریر میںاپنے بریلی شریف کے سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”جب میں آپ (حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا ) سے محبت کرنے والوں کو دیکھا تو مجھے صحابہ کی محبت کی یاد تازہ ہوگئی کہ ایمان یہ کہتاہے کہ اپنے اساتذہ اور مشائخ کی اسی طرح قدر کرنی چاہئے ۔”

مولانا کلیم القادری رضوی (بولٹن ،انگلینڈ) ٢٠٠٨ء کے دورہ شام کی روئیداد میں لکھتے ہیں:”اسی دن فخر سادات ،صاحب القاب کثیرہ ، عظیم روحانی شخصیت سیدنا موسیٰ الکاظم رضی اللہ تعالی عنہ کے شہزادے الشیخ الصباح تشریف لائے ۔آپ نے فرمایاکہ چند روز قبل میں اس علاقے کے قریب سے گزرا تو مجھے یہاں انوار نظر آئے میں سمجھ گیا کہ یہاں کوئی ولی اللہ مقیم ہیں، معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ حضرت تشریف لائے ہوئے ہیںتو ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ ” [تجلیّاتِ تاج الشریعہ /صفحہ :٥٦٦،٥٦٧]

اللہ والوں کی باتیں قلم و قرطاس کی قید سے ماورا ہیں ۔ولی کامل حضورتاج الشریعہ کے ذات بھی وہ آئینہ ہے جس کے بے شمار زاویے ہیں اور ہر زاویہ ہزار جہتوں پر مشتمل ہے ۔جن کا تذکرہ نہ میرے بس کی بات ہے نہ ہی اس مختصر سے کتابچے میں ممکن ہے ۔میں برادر طریقت مولانا منصور فریدی رضوی کے ان الفاظ پر مضمون کا اختتام کرتا ہوں کہ : ”مصدر علم وحکمت ،پیکر جام الفت،سراج بزم طریقت،وارث علم مصطفیا،مظہر علم رضا، میر بزم اصفیا،صاحب زہد وتقویٰ ،عاشق شاہ ہدیٰ ا،غلام خیر الوریٰ ا،حامل علم نبویہ ، سیدی آقائی ،حضورتاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی الحاج الشاہ اختررضاخاں ازہری مدظلہ، النورانی اس عظیم شخصیت کا نام ہے جن کی زندگی کے کسی ایک گوشہ پر اگر سیر حاصل گفتگو کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہزاروں صفحات کی ضرورت ہے ۔” [تجلیّات ِتاج الشریعہ /صفحہ:٣١١]
 

یا خدا چرخ اسلام پر تا ابد ۔ ۔ ۔ میراتاج شریعت سلامت رہے